سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3055
Sunan Ibn Majah 3055
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
76: بَابُ : الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ؟"، قَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، وَلَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ، أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا، وَلَكِنْ سَيَكُونُ لَهُ طَاعَةٌ فِي بَعْضِ مَا تَحْتَقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَيَرْضَى بِهَا، أَلَا وَكُلُّ دَمٍ مِنْ دِمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ مَا أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ، وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا يَا أُمَّتَاهُ هَلْ بَلَّغْتُ؟"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا : ” لوگو ! سنو ، کون سا دن زیادہ تقدیس کا ہے “ ؟ آپ نے تین بار یہ فرمایا ، لوگوں نے کہا : حج اکبر ۱؎ کا دن ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی ، اور تمہارے اس مہینے کی ، اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے ، جو کوئی جرم کرے گا ، تو اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا ، باپ کے جرم کا مواخذہ بیٹے سے ، اور بیٹے کے جرم کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا ، سن لو ! شیطان اس بات سے ناامید ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی ، لیکن عنقریب بعض کاموں میں جن کو تم معمولی جانتے ہو ، اس کی اطاعت ہو گی ، وہ اسی سے خوش رہے گا ، سن لو ! جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے ( اب اس کا مطالبہ و مواخذہ نہ ہو گا ) اور میں حارث بن عبدالمطلب کا خون سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کے خون میں معاف کرتا ہوں ، ( جو قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیا کرتے تھے اور قبیلہ ہذیل نے انہیں شیر خوارگی کی حالت میں قتل کر دیا تھا ) سن لو ! جاہلیت کے تمام سود معاف کر دئیے گئے ، تم صرف اپنا اصل مال لے لو ، نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم ہو ، آگاہ رہو ، اے میری امت کے لوگو ! کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے “ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ، لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ نے پہنچا دیا ، آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو گواہ رہ “ ، اور اسے آپ نے تین بار دہرایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3055]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر حج کو حج اکبر کہتے ہیں، اور عمرہ کو حج اصغر، رہی بات عوام الناس کی جو ان کے درمیان مشہور ہے کہ حج اکبر اس حج کو کہتے ہیں، جس میں عرفہ کا دن جمعہ کے دن آئے اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 5 (3334)، سنن الترمذی/الفتن 2 (2159)، تفسیر القرآن 10 (1) (3087)، (تحفة الأشراف: 10691)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 489) (صحیح)