سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3037
Sunan Ibn Majah 3037
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
67: بَابُ : تَأْخِيرِ رَمْيِ الْجِمَارِ مِنْ عُذْرٍ
باب: عذر کی بناء پر کنکریاں مارنے میں دیر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ، فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا"، قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ.
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو رمی کر لیں ، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں ، خواہ گیارہویں ، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں ، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎ ۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا : پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3037]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ اونٹ چرانے کے لیے منیٰ سے دور چلے جاتے ہیں، ان کو روزی روٹی کے لیے منیٰ میں آنا دشوار ہے، اس لیے دونوں کی رمی ایک دن آ کر کر سکتے ہیں، مثلاً یوم النحر کو رمی کر کے چلے جائیں پھر ۱۱ ذی الحجہ کو نہ کریں،۱۲ کو آ کر دونوں دن کی رمی ایک بار لیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
أنظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5030) (صحیح)