سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 303
Sunan Ibn Majah 303
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
11: بَابُ : ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْخَاتَمِ فِي الْخَلاَءِ
باب: پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 303]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی میں تین سطریں تھیں، نیچے کی سطر میں «محمد» ، اور بیچ کی سطر میں «رسول» ، اور اوپر کی سطر میں لفظ «الجلالہ» ”اللہ“ مرقوم تھا، اور اسی لفظ کی تعظیم کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اتار دیتے تھے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس میں اللہ کا نام ہو اسے پاخانے وغیرہ نجس جگہوں میں نہ لے جایا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (19) ترمذي (1746) نسائي (5216) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 10 (19)، سنن الترمذی/اللباس 16 (1746)، الشمائل 11 (93)، سنن النسائی/الزینة 51 (5216)، (تحفة الأشراف: 1512)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/99، 101، 282) (ضعیف) (اس میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، امام دارقطنی کہتے ہیں کہ ابن جریج کی تدلیس سے اجتناب کرو، اس لئے کہ وہ قبیح تدلیس کرتے ہیں، وہ صرف ایسی حدیث کے بارے میں تدلیس کرتے ہیں جس کو انہوں نے کسی مطعون راوی سے سنی ہو)