سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3008
Sunan Ibn Majah 3008
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
53: بَابُ : الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ
باب: (نویں ذی الحجہ کی) صبح سویرے منیٰ سے عرفات جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ، وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ، فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا، وَلَا هَذَا عَلَى هَذَا، وَرُبَّمَا قَالَ: هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے ، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے ، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر ، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا : نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا ، اور نہ ان لوگوں نے ان پر ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3008]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العیدین 12 (970)، الحج 86 (1659)، صحیح مسلم/الحج 46 (1285) سنن النسائی/الحج 192 (3003)، (تحفة الأشراف: 1452)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 28 (1816)، موطا امام مالک/الحج 13 (43)، مسند احمد (3/110، 240)، سنن الدارمی/المناسک 48 (1919) (صحیح)