سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3007
Sunan Ibn Majah 3007
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بُنْيَانًا يُظِلُّكَ؟، قَالَ: " لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3007]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی منیٰ کا میدان حاجیوں کے لئے وقف ہے، وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے، تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ گھر بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
أنظر ما قبلہ (ضعیف)