📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل (كتاب المناسك) 🏷️ باب: باب: حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2980 Sunan Ibn Majah 2980
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
41: بَابُ : فَسْخِ الْحَجِّ
باب: حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا نَخْلِطُهُ بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، فَقُلْنَا مَا بَيْنَنَا: لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ، لَأَحْلَلْتُ"، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: أَمُتْعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا، أَمْ لِأَبَدٍ، فَقَالَ: " لَا بَلْ لِأَبَدِ، الْأَبَدِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا ( یعنی احرام باندھا ) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ۱؎ ، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں ، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں ، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں ، ہم نے عرض کیا : اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں ، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو ؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ۲؎ ، اگر میرے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ کر کے ) حلال ہو جاتا ( یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیتا ) ۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت عرض کیا : حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے “ ۳؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2980]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حج افراد کا احرام باندھا۔
۲؎: یعنی جو کہہ رہا ہوں کسی پس و پیش کے بغیر انجام دو، میری کوئی بات تقویٰ و پرہیز گاری کے منافی نہیں ہو سکتی۔
۳؎: ہر ایک شخص کے لیے قیامت تک تمتع کرنا جائز ہے، اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی احرام باندھے لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہ ہو تو وہ مکہ میں جا کر حج کی نیت فسخ کر سکتا ہے، اور عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے، پھر یوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی ۸ تاریخ کو حج کے لئے نیا احرام باندھے، اور اس تاریخ (آٹھ) تک سب کام کر سکتا ہے جو احرام کی حالت میں جائز نہ تھے، امام ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کا فتوی ٰ دیا، پھر فتویٰ دیا کہ یہ امر مستحب ہے ضرور اس کام کو کرنا چاہئے، اور یہ حکم کسی دوسرے حکم سے منسوخ نہیں ہوا، اور دین اللہ تعالیٰ کا ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ حج کو فسخ کر ڈالنا اور عمرہ کر دینا اگر کوئی ان احادیث کی روسے واجب کہے تو اس کا قول قوی ہو گا، بہ نسبت اس شخص کے قول کے جو اس سے منع کرتا ہے ... الی آخرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/المناسک 23 (1787)، (تحفة الأشراف: 2426)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1216)، سنن النسائی/الحج 77 (2807) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2980
2978 2979 2980 2981 2982

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2981 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ س...
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ ...
#2982 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ...
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نکلے ، ہم نے حج...
#2983 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ،...
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ