سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2979
Sunan Ibn Majah 2979
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
40: بَابُ : التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
باب: حج تمتع کا بیان۔
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن بشار قالا: حدثنا محمد بن جعفر (ح) وحدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثني أبي قالا: حدثنا شعبة عن الحكم عن عمارة بن عمير عن إبراهيم بن أبي موسى عن أبي موسى الأشعري أنه كان يفتي بالمتعة فقال له رجل رويدك بعض فتياك فإنك لا تدري ما أحدث أمير المؤمنين في النسك بعدك. حتى لقيته بعد فسألته فقال عمر قد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله وأصحابه ولكني كرهت أن يظلوا بهن معرسين تحت الأراك ثم يروحون بالحج تقطر رءوسهم.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : آپ اپنے بعض فتوؤں سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ آپ کے بعد امیر المؤمنین نے حج کے مسئلہ میں جو نئے احکام دئیے ہیں وہ آپ کو معلوم نہیں ، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور ان سے پوچھا ، تو آپ نے کہا : مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے ، لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے عورتوں کے ساتھ رات گزاریں پھر حج کو جائیں ، اور ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2979]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 22 (1221)، سنن النسائی/الحج 50 (2736)، (تحفة الأشراف: 10584)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/49)، سنن الدارمی/النسک 18 (1856) (صحیح)