سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2952
Sunan Ibn Majah 2952
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
29: بَابُ : الرَّمَلِ حَوْلَ الْبَيْتِ
باب: بیت اللہ کے طواف میں رمل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: " فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ؟ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَايْمُ اللَّهِ مَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ اب دونوں رمل ( ایک طواف کا ، دوسرا سعی کا ) کی کیا ضرورت ہے ؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ، اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے ، لیکن قسم اللہ کی ! ہم تو کوئی ایسی بات چھوڑنے والے نہیں جس پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عمل کیا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2952]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت کے جس حکم کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو ویسے ہی چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی ہو بہو تابعداری کی جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/المناسک 51 (1887)، (تحفة الأشراف: 10391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/45) (حسن صحیح)