سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2923
Sunan Ibn Majah 2923
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
16: بَابُ : رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ
باب: بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے : اے محمد ! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں ، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2923]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے لبیک پکارنے کا وجوب نکلتا ہے، «شعار» کے لفظ سے واجب ہونا ضروری نہیں، بہت سی چیزیں سنت ہیں، پر شعائر میں سے ہیں جیسے اذان وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3750، و مصباح الزجاجة: 1031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/192) (صحیح)