سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2922
Sunan Ibn Majah 2922
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
16: بَابُ : رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ
باب: بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي، أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ".
سائب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2922]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے،پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو «لبیک بحجۃ» کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو «لبیک عمرۃ» کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے «لبیک بحجۃ وعمرۃ» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 27 (1814)، سنن الترمذی/الحج 15 (829)، سنن النسائی/الحج 55 (2754)، (تحفة الأشراف: 3788)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 10 (34)، مسند احمد (4/55، 56)، سنن الدارمی/المناسک 14 (1850) (صحیح)