سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2904
Sunan Ibn Majah 2904
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الْحَجِّ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، قَالَ: " نَعَمْ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ، فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا : کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اپنے والد کی طرف سے حج کرو ، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2904]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی باپ کے بڑے احسانات ہیں، آدمی کو چاہئے کہ اپنے والد کی طرف سے خیر خیرات اور اچھے کام کرے، جیسے صدقہ اور حج وغیرہ، اگر یہ نہ ہو سکے تو اتنا ضروری ہے کہ والد کے ساتھ برائی نہ کرے، وہ برائی یہ ہے دوسرے لوگوں سے لڑ کر والد کو گالیاں دلوائے یا برا کہلوائے یا ان کے والد کو برا کہہ کر، جیسے دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا: اپنے والد کو کون گالی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح سے کہ دوسرے کے والد کو گالی دے وہ اس کے والد کو گالی دے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6555، ومصباح الزجاجة: 1024) (صحیح الإسناد)