سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2897
Sunan Ibn Majah 2897
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
6: بَابُ : مَا يُوجِبُ الْحَجَّ
باب: حج کو کون سی چیز واجب کر دیتی ہے؟
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَيْضًا عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ" يَعْنِي قَوْلَهُ: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے فرمان : «من استطاع إليه سبيلا» کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2897]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن میں جو آیا ہے کہ جو حج کے راہ کی طاقت رکھے اس سے مراد یہ ہے کہ کھانا اور سواری کا خرچ اس کے پاس ہو جائے تو حج فرض ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عمر بن عطاء بن وراز: ضعيف ¤ هشام بن سليمان: مقبول (تقريب: 7296) أي مجهول الحال و سويدبن سعيد: ضعيف ¤ وللحديث طريق موقوف عند البيهقي (331/4) وسنده ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6152، 6163، ومصباح الزجاجة: 1022) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور عمر بن عطاء ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإروا ء: 988)