سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2896
Sunan Ibn Majah 2896
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
6: بَابُ : مَا يُوجِبُ الْحَجَّ
باب: حج کو کون سی چیز واجب کر دیتی ہے؟
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟، قَالَ: " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْحَاجُّ؟، قَالَ: " الشَّعِثُ التَّفِلُ"، وَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ومَا الْحَجُّ؟، قَالَ: " الْعَجُّ وَالثَّجُّ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ: بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: نَحْرُ الْبُدْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے ، ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” زاد سفر اور سواری ( کا انتظام ) “ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! حاجی کیسا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری “ ایک دوسرا شخص اٹھا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «عج» اور «ثج» “ ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا ، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2896]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا لكن جملة العج والثج ثبتت في حديث آخر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (813،2998) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 4 (813)، (تحفة الأشراف: 7440) (ضعیف جدا) (ابراہیم بن یزید مکی متروک الحدیث راوی ہے، لیکن العج و الثج کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے، جو 2924 نمبر پر آئے گا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 988)