سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2890
Sunan Ibn Majah 2890
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْحَجِّ عَلَى الرَّحْلِ
باب: سواری پر حج کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ، وَقَطِيفَةٍ تُسَاوِي أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ أَوْ لَا تُسَاوِي، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا، وَلَا سُمْعَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی ، یا اتنی بھی نہیں ، پھر فرمایا : ” اے اللہ ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2890]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خالص تیری رضا مندی اور ثواب کے لیے حج کرتا ہوں، نہ نمائش اور فخر و مباہات کے لیے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج میں زیادہ زیب و زینت کرنا اور زیادہ عمدہ سواری یا عمدہ لباس رکھنا خلاف سنت ہے، حج میں بندہ اپنے مالک کے حضور میں جاتا ہے تو جس قدر عاجزی کے ساتھ جائے پھٹے پرانے حال سے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ مالک کی رحمت جوش میں آئے، اور یہی وجہ ہے کہ حج میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبان الرقاشي ضعيف ¤ وله شاھد ضعيف عند ابن خزيمة (2836) ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1672، ومصباح الزجاجة: 1019)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 3 (1517)، عن ثمامة بن عبد اللہ بن أنس قال: حج أنس علی رحل ولم یکن شحیحاً وحدث أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج علی رحل وکانت زاعلتہ (صحیح) (الربیع بن صبیح و یزید بن ابان دونوں ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2617، و مختصر الشمائل: 288، فتح الباری: 3؍ 387)