سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2888
Sunan Ibn Majah 2888
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
3: بَابُ : فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ
باب: حج اور عمرہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے ، اور حج مبرور ( مقبول ) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2888]
💡 وضاحت:
۱؎: حج مبرور: حج مقبول کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گنا ہ سرزد نہ ہو، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے تمام شرائط اور آداب کی پابندی کی گئی ہو، اور بعضوں نے کہاکہ حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد حاجی کا حال بدل جائے یعنی توجہ الی اللہ اور عبادت میں مصروف رہے، اور جن گناہوں کو حج سے پہلے کیا کرتا تھا ان سے باز رہے۔ واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العمرة 1 (1773)، صحیح مسلم/الحج 79 (1349)، سنن النسائی/الحج 5 (2630)، (تحفة الأشراف: 12573)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 90 (933)، موطا امام مالک/الحج 21 (65)، مسند احمد (2/246، 461، 462)، سنن الدارمی/الحج 7 (1836) (صحیح)