سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2883
Sunan Ibn Majah 2883
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الْخُرُوجِ إِلَى الْحَجِّ
باب: حج کے لیے نکلنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ ، أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ".
عبداللہ بن عباس ، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے ، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے ، ( جیسے سواری وغیرہ ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2883]
💡 وضاحت:
۱؎: تاخیر کی صورت میں اس قسم کے حالات سے دو چار ہو سکتا ہے، اور آدمی ایک فرض کا تارک ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11047، ومصباح الزجاجة: 1015)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 6 (1732)، مسند احمد (1/225، 323، 355)، سنن الدارمی/الحج 1 (1825) (حسن) (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 990)