سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2707
Sunan Ibn Majah 2707
کتاب #23: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
4: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الإِمْسَاكِ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرِ عِنْدَ الْمَوْتِ
باب: زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ".
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا ، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو ، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز ( منی ) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے ، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں ، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا “ ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2707]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ صدقہ کا عمدہ وقت وہ ہے جب آدمی صحیح اور تندرست ہو، اور وہ مال کا محتاج ہو بہت دنوں تک جینے کی توقع ہو، لیکن ان سب باتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور اپنا عمدہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 2018، ومصباح الزجاجة: 960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (حسن)