📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: وصیت کے احکام و مسائل (كتاب الوصايا) 🏷️ باب: باب: زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2706 Sunan Ibn Majah 2706
کتاب #23: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
4: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الإِمْسَاكِ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرِ عِنْدَ الْمَوْتِ
باب: زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، وابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَبِّئْنِي مَا حَقُّ النَّاسِ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ، فَقَالَ: " نَعَمْ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ: أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبُوكَ"، قَالَ: نَبِّئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ مَالِي كَيْفَ أَتَصَدَّقُ فِيهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَا هُنَا قُلْتَ: مَالِي لِفُلَانٍ وَمَالِي لِفُلَانٍ وَهُوَ لَهُمْ وَإِنْ كَرِهْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، تمہارے والد کی قسم ، تمہیں بتایا جائے گا ، ( سب سے زیادہ حقدار ) تمہاری ماں ہے “ ، اس نے کہا : پھر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تمہاری ماں ہے “ ، اس نے کہا : پھر کون ہے ؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر بھی تمہاری ماں ہے “ ، اس نے کہا : پھر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تمہارا باپ “ کہا : مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اللہ کی قسم ! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا ، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو ، مال کی حرص ہو ، زندہ رہنے کی امید ہو ، فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو ، ایسا نہ کرو کہ تمہاری سانس یہاں آ جائے ( تم مرنے لگو ) تو اس وقت کہو : میرا یہ مال فلاں کے لیے اور یہ مال فلاں کے لیے ہے ، اب تو یہ مال ورثاء کا ہے گرچہ تم نہ چاہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2706]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مرتے وقت وہ تمہارا مال ہی کہاں رہا جو تم کہتے ہو کہ میرا یہ مال فلاں اور فلاں کو دینا۔ جب آدمی بیمار ہوا اور موت قریب آ پہنچی تو دو تہائی مال پر وارثوں کا حق ہو گیا، اب ایک تہائی پر اختیار رہ گیا اس میں جو چاہے وہ کر لے، لیکن ایک تہائی سے زیادہ اگر صدقہ دے گا تو وہ صحیح نہ ہو گا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عادت کے طور پر غیر اللہ کی قسم کھانا منع نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم نے اس کے باپ کی قسم کھائی، اور بعضوں نے کہا یہ حدیث ممانعت سے پہلے کی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرمایا، نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں کے ساتھ باپ سے تین حصے زیادہ سلوک کرنا چاہئے کیونکہ ماں کا حق سب پر مقدم ہے، ماں نے بچہ کے پالنے میں جتنی تکلیف اٹھائی ہے اتنی باپ نے نہیں اٹھائی گو باپ کا حق بھی بہت بڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ زيادة نعم وأبيك لتنبأن وهي شهادة
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأدب 2 (5971)، صحیح مسلم/البر والصلة 1 (2548)، (تحفة الأشراف: 14905)، وقد أخرجہ: مسند احمد2/391) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2706
2704 2705 2706 2707 2708

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2707 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ...
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ