سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2660
Sunan Ibn Majah 2660
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
21: بَابُ : لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
باب: کافر کے بدلے مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۱؎ ، اور نہ وہ ( کافر ) جس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2660]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہے، اور اہل علم کا اجماع ہے کہ مسلمان کافر حربی کے بدلے نہ مارا جائے گا۔
۲؎: جس غیر مسلم کی حفاظت کا عہد کیا جائے اس کا قتل بھی ناجائز ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں عہدشکنی کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
۲؎: جس غیر مسلم کی حفاظت کا عہد کیا جائے اس کا قتل بھی ناجائز ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں عہدشکنی کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ حنش: حسين بن قيس أبو علي الرحبي متروك ¤ و قوله: ((لا يقتل مؤمن بكافر۔)) صحيح بالشواھد و قوله: ”و لا ذو عھد في عھده“ ضعيف وله شواھد ضعيفة عند ابن حبان (الموارد: 1699) و أبي داود (4530) وغيرھما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6030، ومصباح الزجاجة: 937) (وستأتي بقیتہ برقم: 2683) (صحیح) (سند میں حنش حسین بن قیس ابو علی الرحبی ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)