سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2630
Sunan Ibn Majah 2630
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
6: بَابُ : دِيَةِ الْخَطَإِ
باب: قتل خطا کی دیت۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ خَطَأً، فَدِيَتُهُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةً وَعَشَرَةٌ بَنِي لَبُونٍ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَزْمَانِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ ثَمَنَهَا، وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ، فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاءِ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں ، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں ، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں ، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں ، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت ( خون بہا ) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی ، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی ، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی ، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی ، اور چاندی کے حساب سے آٹھ ہزار درہم ہوتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا : ” گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں ( دیت میں ) لی جائیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2630]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الدیات 4 (4506)، سنن النسائی/القسامة 27 (4805)، (تحفة الأشراف: 8709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)