📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل (كتاب الديات) 🏷️ باب: باب: قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2628 Sunan Ibn Majah 2628
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
5: بَابُ : دِيَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةً
باب: قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ سَمِعَهُ مِنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا: فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَدَمٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ، أَلَا إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهُمَا لِأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوئے ، اللہ کی تعریف کی ، اس کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی ، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی ، آگاہ رہو ! غلطی سے قتل ہونے والا وہ ہے جو کوڑے اور لاٹھی سے مارا جائے ، اس میں ( دیت کے ) سو اونٹ لازم ہیں ، جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ان کے پیٹ میں بچے ہوں ، خبردار ! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور اس میں جو بھی خون ہوا ہو سب میرے ان پیروں کے تلے ہیں ۱؎ سوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے ، سن لو ! میں نے ان دونوں چیزوں کو انہیں کے پاس رہنے دیا ہے جن کے پاس وہ پہلے تھے ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2628]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی لغو ہیں اور ان کا کوئی اعتبار نہیں۔
۲؎: چنانچہ کعبہ کی کلید برداری بنی شیبہ کے پاس اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمے داری بنی عباس کے پاس حسب سابق رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4549) نسائي (4803) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الدیات 19 (4549)، سنن النسائی/القسامة 27 (4797)، (تحفة الأشراف: 7372) (حسن) (ابن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 7/257)
سنن ابن ماجه • حدیث #2628
2627 2627 2628 2629 2630

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2627 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَ...
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمداً و قصداً ق...
#2627 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَ...
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2627M]...
#2629 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُس...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے بارہ ہزار درہم مقرر...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ