📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: حدود کے احکام و مسائل (كتاب الحدود) 🏷️ باب: باب: مخنثوں اور ہیجڑوں کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2613 Sunan Ibn Majah 2613
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
38: بَابُ : الْمُخَنَّثِينَ
باب: مخنثوں اور ہیجڑوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ بِشْرَ بْنَ نُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ عَلَيَّ الشِّقْوَةَ فَمَا أُرَانِي أُرْزَقُ إِلَّا مِنْ دُفِّي بِكَفِّي، فَأْذَنْ لِي فِي الْغِنَاءِ فِي غَيْرِ فَاحِشَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا آذَنُ لَكَ وَلَا كَرَامَةَ وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ كَذَبْتَ أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ لَقَدْ رَزَقَكَ اللَّهُ طَيِّبًا حَلَالًا فَاخْتَرْتَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنْ رِزْقِهِ مَكَانَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مِنْ حَلَالِهِ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْكَ لَفَعَلْتُ بِكَ وَفَعَلْتُ، قُمْ عَنِّي وَتُبْ إِلَى اللَّهِ، أَمَا إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ بَعْدَ التَّقْدِمَةِ إِلَيْكَ ضَرَبْتُكَ ضَرْبًا وَجِيعًا، وَحَلَقْتُ رَأْسَكَ مُثْلَةً، وَنَفَيْتُكَ مِنْ أَهْلِكَ وَأَحْلَلْتُ سَلَبَكَ نُهْبَةً لِفِتْيَانِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" فَقَامَ عَمْرٌو وَبِهِ مِنَ الشَّرِّ وَالْخِزْيِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ. فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَؤُلَاءِ الْعُصَاةُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ بِغَيْرِ تَوْبَةٍ حَشَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا كَانَ فِي الدُّنْيَا مُخَنَّثًا عُرْيَانًا لَا يَسْتَتِرُ مِنَ النَّاسِ بِهُدْبَةٍ كُلَّمَا قَامَ صُرِعَ".
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ عمرو بن مرہ نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! اللہ نے میرے مقدر میں بدنصیبی لکھ دی ہے ، اور میرے لیے سوائے اپنی ہتھیلی سے دف بجا کر روزی کمانے کا کوئی اور راستہ نہیں ، لہٰذا آپ مجھے ایسا گانا گانے کی اجازت دیجئیے جس میں فحش اور بےحیائی کی باتیں نہ ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہ تو تمہیں اس کی اجازت دوں گا ، نہ تمہاری عزت کروں گا ، اور نہ تمہاری آنکھ ہی ٹھنڈی کروں گا ، اے اللہ کے دشمن ! تم نے جھوٹ کہا ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں پاکیزہ حلال روزی عطا کی تھی ، لیکن تم نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی روزی کو چھوڑ کر اس کی حرام کی ہوئی روزی کو منتخب کیا ، اگر میں نے تم کو اس سے پہلے منع کیا ہوتا تو ( آج اجازت طلب کرنے پر ) تجھے سزا دیتا ، اور ضرور دیتا ، میرے پاس سے اٹھو ، اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو ، سنو ! اگر تم نے اب منع کرنے کے بعد ایسا کیا تو میں تمہاری سخت پٹائی کروں گا ، تمہارے سر کو مثلہ کر کے منڈوا دوں گا ، تمہیں تمہارے اہل و عیال سے الگ کر دوں گا ، اور اہل مدینہ کے نوجوانوں کے لیے تمہارے مال و اسباب کو لوٹنا حلال کر دوں گا “ ۔ یہ سن کر عمرو اٹھا ، اس کی ایسی ذلت و رسوائی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہی اسے جانتا ہے ، جب وہ چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ گنہگار ہیں ، ان میں سے جو بلا توبہ کیے مر گیا ، اللہ اسے قیامت کے روز اسی حالت میں اٹھائے گا جس حالت میں وہ دنیا میں مخنث اور عریاں تھا ، اور وہ کپڑے کے کنارے سے بھی اپنا ستر نہیں چھپا سکے گا ، جب جب کھڑا ہو گا گر پڑے گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2613]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده موضوع ¤ بشر بن نمير:متروك متهم (تقريب:706) ويحيي بن العلاء: رمي بالوضع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4950، ومصباح الزجاجة: 926) (موضوع) (بشر بن نمیر بصری ارکان کذب میں سے ہے)
سنن ابن ماجه • حدیث #2613
2611 2612 2613 2614 2615

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2614 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ...
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، تو ایک...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ