سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2611
Sunan Ibn Majah 2611
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
36: بَابُ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ
باب: کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے ، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا ، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2611]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضيعف ¤ سفيان الثوري عنعن ¤ ورواه شعبة عن الحكم بن عتيبة عن مجاهد به نحوه بلفظ: و إن ريحھا ليوجد من قدر سبعين عاما۔(أحمد 171/2،194) وسنده معلول،الحكم بن عتيبة مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8922، ومصباح الزجاجة: 924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/171، 94) (ضعیف) (سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، اور سبعین عاماً کے لفظ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: 360)