سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2550
Sunan Ibn Majah 2550
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
7: بَابُ : حَدِّ الزِّنَا
باب: زنا کی حد کا بیان۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( دین کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو ، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ( جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا ، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا ) راہ نکال دی ہے : کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2550]
💡 وضاحت:
۱؎: محصن (شادی شدہ) زانی اور محصنہ (شادی شدہ) زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں، پھر رجم کا حکم دیا جائے گا، اور اگر کوڑے نہ مارے جائیں اورصرف رجم پر اکتفا کیا جائے تو ایسا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس رضی اللہ عنہ کو اس عورت کے رجم کا حکم دیا، اور کوڑے مارنے کے لئے نہیں فرمایا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی، غامدیہ رضی اللہ عنہما اور یہود کو رجم کا حکم دیا اورکسی کو کوڑے نہیں لگوائے، اسی طرح شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) نے اپنی خلافت میں صرف رجم کیا کوڑے نہیں مارے، بعضوں نے کہا: عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا حکم منسوخ ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں سورہ نساء کی آیت کا حوالہ ہے اور سورہ نساء اخیر میں اتری۔ اور حق یہ ہے کہ امام کو اس باب میں اختیار ہے، خواہ کوڑے لگا کر رجم کرے، خواہ رجم ہی پر بس کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحدود 3 (1690)، سنن ابی داود/الحدود 23 (4415، 4416)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1434)، (تحفة الأشراف: 5083)، وقد أخرجہ: حم (3/475، 5/313، 317، 318، 320)، سنن الدارمی/الحدود 19 (2372) (صحیح)