سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2549
Sunan Ibn Majah 2549
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
7: بَابُ : حَدِّ الزِّنَا
باب: زنا کی حد کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ: خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ائذَنْ لِي حَتَّى أَقُولَ، قَالَ: " قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَسَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْمِائَةُ الشَّاةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، قَالَ هِشَامٌ: فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اور بولا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے ، اس کا فریق ( مقابل ) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا ، بولا : آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہو “ اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا ، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا ، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے ، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا ، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : ” قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا ، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو ، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، اور اے انیس ! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دو “ ۱؎ ۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں : انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے ، اس نے اقبال جرم کیا ، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2549]
💡 وضاحت:
۱؎: عورت شادی شدہ تھی اس لئے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، اور لڑکا شادی شدہ نہیں تھا، اس لئے اس کے لئے ایک سال جلا وطنی اور سو کوڑوں کی سزا متعین کی گئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314، 2315مختصراً) الصلح 5 (2695، 2696)، الشروط 9 (2724، 2725)، الإیمان 3 (6633، 6634)، الحدود 20 (6835، 6836)، 16 (6827، 6828)، 33 (6859، 6860)، الأحکام 3 (71934، 7194)، الآحاد 1 (7258، 7260)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697، 1698)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4445)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1433)، سنن النسائی/آداب القضاة 21 (4512)، (تحفة الأشراف: 3755)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد (4/115، 116)، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)