سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2527
Sunan Ibn Majah 2527
کتاب #20: کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
7: بَابُ : مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ
باب: ساجھے کا غلام ہو اور ساجھی دار اپنا حصہ آزاد کر دے تو ایسے غلام کا حکم۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِقْصًا، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی کسی ( مشترک ) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے ، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے ، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے ، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2527]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الشرکة 5 (2492)، 14 (2504)، العتق 5 (2526، 2527)، صحیح مسلم/العتق 1 (1503)، سنن ابی داود/العتق 3 (3934)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1348)، (تحفة الأشراف: 12211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/255، 347، 426، 468، 472، 531) (صحیح)