سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2523
Sunan Ibn Majah 2523
کتاب #20: کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْعِتْقِ
باب: غلام آزاد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مالکوں کو سب سے زیادہ پسند ہو ، اور جو قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2523]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں ہمیشہ عمدہ اور قیمتی چیز دینا بہتر ہے، کیونکہ وہ شہنشاہ بے پرواہ ہے اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں، اور ادب بھی یہی ہے کہ اس کے نام پر وہی چیز دیں جو نہایت محبوب اور مرغوب اور قیمتی ہو: «لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ» (سورة آل عمران: 92)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العتق 2 (2518)، صحیح مسلم/الإیمان 35 (84)، سنن النسائی/الجہاد 17 (3131)، (تحفة الأشراف: 12004) (صحیح)