📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: لقطہ کے احکام و مسائل (كتاب اللقطة) 🏷️ باب: باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2506 Sunan Ibn Majah 2506
کتاب #19: کتاب: لقطہ کے احکام و مسائل
2: بَابُ : اللُّقَطَةِ
باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعُذَيْبِ الْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتَ، الْتَقَطْتُ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً"، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا". فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: " اعْرِفْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلَّا، فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ".
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا ، جب ہم عذیب پہنچے تو میں نے وہاں ایک کوڑا پڑا ہوا پایا ، ان دونوں نے مجھ سے کہا : اس کو اسی جگہ ڈال دو ، لیکن میں نے ان کا کہا نہ مانا ، پھر جب ہم مدینہ پہنچے ، تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا : تم نے ٹھیک کیا ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سو دینار پڑے پائے تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سال بھر تک اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو “ ، میں پتا کرتا رہا ، لیکن کسی کو نہ پایا جو انہیں پہچانتا ہو ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا تھیلا ، بندھن اور اس کی تعداد یاد رکھو ، پھر سال بھر اس کے مالک کا پتا کرتے رہو ، اگر اس کا جا ننے والا آ جائے تو خیر ، ورنہ وہ تمہارے مال کی طرح ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2506]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے: «ثمَّ عرِّفها سنةً، فإن جاء صاحبُها وإلا فشأنكَ بها» سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر اس کا جاننے والا آ جائے تو خیر ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللقطة 1 (2426)، صحیح مسلم/اللقطة 1 (1723)، سنن ابی داود/اللقطة 1 (1701، 1702)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1374)، (تحفة الأشراف: 28)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/126، 127) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2506
2504 2505 2506 2507 2508

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2505 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَال...
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو کوئی گری پڑی ...
#2507 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَة...
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا گی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ