سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2452
Sunan Ibn Majah 2452
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
7: بَابُ : الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس زمین ہو وہ خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو ( مفت ) دیدے ، ورنہ اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2452]
💡 وضاحت:
۱؎: اس مفہوم کی احادیث کو ابتدائے اسلام کے احکام پر محمول کیا جائے، کیونکہ سونے اور چاندی کے عوض تو کرایہ پر زمین دینا بالاتفاق جائز ہے جبکہ ان میں اس کی بھی ممانعت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث 18 (2341)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1544)، (تحفة الأشراف: 15415) (صحیح)