سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2451
Sunan Ibn Majah 2451
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
7: بَابُ : الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرْضِينَ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس زائد زمینیں تھیں ، جنہیں وہ تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دیا کرتے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس زائد زمینیں ہوں تو ان میں وہ یا تو خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے ، اگر یہ دونوں نہ کرے تو اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2451]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الہبة 35 (2632)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3907)، (تحفة الأشراف: 2424)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 304، 312، 354، 363)، سنن الدارمی/البیوع 72 (2657) (صحیح)