سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2433
Sunan Ibn Majah 2433
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
20: بَابُ : أَدَاءِ الدَّيْنِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی طرف سے قرض ادا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ ، أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ عِيَالًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ، فَاقْضِ عَنْهُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ، ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: " فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ".
سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پا گئے ، اور ( ترکہ میں ) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے ، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے ، اس کا قرض ادا کرو “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں ، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے ، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو بھی ادا کر دو اس لیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2433]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد الملك أبو جعفر مجھول الحال ¤ و للحديث شاھد صحيح عند أحمد (5/ 7) والبخاري في التاريخ الكبير (4/ 45) والبيهقي (10/ 142) إلا أنه لم يسم كم ترك ¤ يعني الحديث صحيح دون قوله: و ترك ثلاثمائة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3823، ومصباح الزجاجة: 856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136، 5/7) (صحیح)