سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2431
Sunan Ibn Majah 2431
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
19: بَابُ : الْقَرْضِ
باب: قرض دینے کا ثواب۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَاب: الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ"، قَالَ: لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے ، اور قرض کا اٹھارہ گنا ، میں نے کہا : جبرائیل ! کیا بات ہے ؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے ؟ تو کہا : اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے ، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2431]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ خالد بن يزيد: ضعيف ¤ ولبعض حديثه شاهد ضعيف عند الطبراني (297/8 ح 7976) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1703، ومصباح الزجاجة: 854) (ضعیف جدا) (خالد بن یزید متروک ہے، یحییٰ بن معین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: 3637)