سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2408
Sunan Ibn Majah 2408
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
10: بَابُ : مَنِ ادَّانَ دَيْنًا وَهُوَ يَنْوِي قَضَاءَهُ
باب: قرض اس نیت سے لینا کہ اسے واپس بھی کرنا ہے اس کے فضل کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ ، قَالَت: كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا : آپ ایسا نہ کریں ، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا ، تو وہ بولیں : کیوں ایسا نہ کریں ، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2408]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله في الدنيا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (4690) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 97 (4690)، (تحفة الأشراف: 18077) (صحیح) (حدیث میں فِي الدُّنْيَا کا لفظ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 496)۔