سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2407
Sunan Ibn Majah 2407
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الْكَفَالَةِ
باب: ضمانت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا"، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِالْوَفَاءِ"، قَالَ: بِالْوَفَاءِ وَكَانَ الَّذِي عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا ، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھوں گا ) اس لیے کہ وہ قرض دار ہے “ ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں اس کے قرض کی ضمانت لیتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورا ادا کرنا ہو گا “ ، انہوں نے کہا : جی ہاں ، پورا ادا کروں گا ، اس پر اٹھارہ یا انیس درہم قرض تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2407]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ قرض بری بلا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ سے نماز جنازہ پڑھنے میں تامل کیا، بعضوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کے لئے ایسا کیا تاکہ دوسرے لوگ قرض کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں، قرض وہ بلا ہے کہ شہید کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں پر قرض معاف نہیں ہوتا، وہ حقوق العباد ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کو جائز ہے کہ بعض مردوں پر جن سے گناہ سرزد ہوا ہو نماز جنازہ نہ پڑھے، دوسرے لوگوں کو ڈرانے کے لئے، لیکن دوسرے لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ میت کی طرف سے ضمانت درست ہے اگرچہ اس نے قرض کے موافق مال نہ چھوڑا ہو، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں: اگر قرض کے موافق اس نے مال نہ چھوڑا ہو تو ضمانت درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجنائز 69 (1069)، سنن النسائی/الجنائز 67 (1962)، البیوع 100 (4696)، (تحفة الأشراف: 12103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/302، 311)، سنن الدارمی/البیوع 53 (2635) (صحیح)