سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2071
Sunan Ibn Majah 2071
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
27: بَابُ : اللِّعَانِ
باب: لعان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَا مُلَاعَنَةَ بَيْنَهُنَّ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار قسم کی عورتوں میں لعان نہیں ہے ، ایک تو نصرانیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو ، دوسری یہودیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو ، تیسری آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو ، چوتھی لونڈی جو کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2071]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن تیسری صورت میں غلام کو حد قذف پڑے گی اور باقی صورتوں میں نہ لعان ہے نہ شوہر کو حد پڑے گی، غرض یہ ہے کہ لعان مومنہ اور آزاد عورت کی تہمت سے لازم آتا ہے، اگر عورت کافرہ ہو، یا لونڈی ہو، یا اس کو حد پڑ چکی ہو تو لعان نہ ہو گا۔ (شرح وقایہ)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ عثمان بن عطاء الخراساني ضعيف الحديث جدًا ¤ وله متابعة مردودة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8763، ومصباح الزجاجة: 730) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عطاء ضعیف راوی ہیں)