سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2070
Sunan Ibn Majah 2070
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
27: بَابُ : اللِّعَانِ
باب: لعان کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعِجْلَانَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ، فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: بَلَى، قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ، " فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلَاعَنَا، وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی ، اور اس کے پاس رات گزاری ، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا : میں نے اسے کنواری نہیں پایا ، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو بلایا ، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا : میں تو کنواری تھی ، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2070]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق لم يصرح بالسماع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5526، ومصباح الزجاجة: 729)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/261) (ضعیف) (محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت قال کہہ کر کی ہے)