📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: طلاق کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق) 🏷️ باب: باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2058 Sunan Ibn Majah 2058
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
23: بَابُ : عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ
باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَ: " قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟، فَقَالَ: لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً، قَالَتْ: وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا : تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا ، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا : مجھ پر کتنی عدت ہے ؟ انہوں نے کہا : تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو ، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آ جائے ، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا : عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی پیروی کی ، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا ، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کر لیا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2058]
💡 وضاحت:
۱؎: نسائی میں ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ ثابت کی عورت کے قصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو تمہارا اس کے پاس ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑ دو ثابت نے کہا: اچھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم دیا۔ اور یہ کئی طریق سے مروی ہے، ان حدیثوں سے یہ نکلتا ہے کہ خلع کرانے والی کی عدت ایک حیض ہے اور خلع نکاح کا فسخ ہے، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اگر خلع طلاق ہوتا تو اس کی عدت تین حیض ہوتی، ابوجعفر النحاس نے الناسخ والمنسوخ میں اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور یہی دلائل کی روشنی میں زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الطلاق 53 (3528)، (تحفة الأشراف: 15836) (حسن صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2058
2056 2057 2058 2059 2060
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ