سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2057
Sunan Ibn Majah 2057
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
22: بَابُ : الْمُخْتَلِعَةِ تَأْخُذُ مَا أَعْطَاهَا
باب: شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں ، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے ، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی “ ؟ کہا : ہاں ، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2057]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس وضعفه البوصيري لتدليس الحجاج ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8677، ومصباح الزجاجة: 726)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (ضعیف) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن صحیح احادیث اس سے مستغنی کر دیتی ہے)