سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1737
Sunan Ibn Majah 1737
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
41: بَابُ : صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
باب: یوم عاشوراء کا روزہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشوراء ( محرم کی دسویں تاریخ ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے ، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے ، اور جو نہ چاہے نہ رکھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1737]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 20 (1126)، (تحفة الأشراف: 8285)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 69 (2002)، سنن ابی داود/الصوم 64 (2443)، مسند احمد (2/57)، سنن الدارمی/الصوم 46 (1803) (صحیح)