سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1735
Sunan Ibn Majah 1735
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
41: بَابُ : صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
باب: یوم عاشوراء کا روزہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: " مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الْيَوْمَ"، قُلْنَا: مِنَّا طَعِمَ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ، قَالَ: " فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ مَنْ كَانَ طَعِمَ، وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْ فَأَرْسِلُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ، قَالَ: يَعْنِي أَهْلَ الْعَرُوضِ حَوْلَ الْمَدِينَةِ.
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا : ” آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے “ ؟ ہم نے عرض کیا : بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں ، اور «عروض» ۱؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں “ ۲؎ ۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1735]
💡 وضاحت:
۱؎: «عروض» کا اطلاق مکہ، مدینہ اور ان دونوں کے اطراف کے دیہات پر ہوتا ہے۔
۲؎: اس سے عاشوراء کے روزے کی بڑی تاکید معلوم ہوتی ہے، اور شاید یہ حدیث اس وقت کی ہو جب عاشوراء کا روزہ فرض تھا کیونکہ رمضان کا روزہ ہجرت کے بہت دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔
۲؎: اس سے عاشوراء کے روزے کی بڑی تاکید معلوم ہوتی ہے، اور شاید یہ حدیث اس وقت کی ہو جب عاشوراء کا روزہ فرض تھا کیونکہ رمضان کا روزہ ہجرت کے بہت دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11225، ومصباح الزجاجة: 622)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح)