سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1713
Sunan Ibn Majah 1713
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
31: بَابُ : مَا جَاءَ فِي صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ: " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ: " ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ"، قَالَ: كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟، قَالَ: " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، پھر انہوں نے کہا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1713]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک دن روزہ، اور دو دن افطار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پسند کیا کیونکہ اس میں افطار غالب اور روزہ کم ہے، تو کمزوری لاحق ہونے کا بھی ڈر نہیں ہے، اور یہ فرمایا: ”مجھے یہ پسند ہے کہ مجھ کو اس کی طاقت ہوتی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ کی طاقت تھی، آپ صوم وصال رکھا کرتے تھے، مگر آپ کو اپنی بیویوں کے حقوق کا بھی خیال تھا، اور دوسرے کاموں کا بھی، اس لحاظ سے زیادہ روزے نہیں رکھ سکتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 36 (1162)، سنن ابی داود/الصوم 53 (2425، 2426)، سنن الترمذی/الصوم 46 (749)، 48 (752)، 56 (767)، سنن النسائی/الصیام 42 (2385)، (تحفة الأشراف: 12117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/295، 296، 299، 303، 308، 310) (صحیح)