سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1712
Sunan Ibn Majah 1712
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
31: بَابُ : مَا جَاءَ فِي صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيُصَلِّي ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، آپ آدھی رات سوتے تھے ، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے ، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1712]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التہجد 7 (1131)، أحادیث الأنبیاء 38 (3420)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن ابی داود/الصیام 67 (2448)، سنن النسائی/قیام اللیل 13 (1631)، الصیام 40 (2346)، (تحفة الأشراف: 8897)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 57 (770)، سنن الدارمی/الصوم 42 (1793) (صحیح)