سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1703
Sunan Ibn Majah 1703
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
27: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ
باب: روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا، فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ، فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَدُّرِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ"، قَالَ مُطَرِّفٌ: فَقُلْتُ لِعَامِرٍ: أَفِي رَمَضَانَ؟، قَالَ: رَمَضَانُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے ، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے ، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی ، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی ۔ مطرف کہتے ہیں : میں نے عامر سے پوچھا : کیا ایسا رمضان میں ہوتا ؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1703]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17622)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 22 (1925)، صحیح مسلم/الصوم 13 (1109)، سنن ابی داود/الصوم 36 (2388)، سنن الترمذی/الصوم 63 (779)، موطا امام مالک/الصیام 4 (11)، مسند احمد (1/211، 6/34، 36، 38، 203، 213، 216، 229، 266، 278، 289، 290، 308)، سنن الدارمی/الصوم 22 (1766) (صحیح)