سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1694
Sunan Ibn Majah 1694
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
23: بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ"، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟، قَالَ: " قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا : سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا ؟ کہا : پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1694]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جتنی دیر میں پچاس آیتیں پڑھی جائیں، اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری صبح صادق کے قریب کھاتے تھے اتنا کہ سحری سے فارغ ہو کر نماز فجر کو کھڑے ہوتے، جس کو صبح صادق کی پہچان ہو، اس کے لیے ایسا ہی کرنا سنت ہے، اگر یہ نہ ہو تو صبح سے پاؤ گھنٹہ یا آدھا گھنٹہ پہلے سحری سے فارغ ہو، یہ نہیں کہ آدھی رات کو یا ایک بجے یا دو بجے سحری کرے جیسے ہمارے زمانہ کے عوام کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 27 (575)، الصوم 19 (1921)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1097)، سنن الترمذی/الصوم 14 (703، 704)، سنن النسائی/الصوم 11 (2157)، (تحفة الأشراف: 3696)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 185، 86ا، 188، 192، سنن الدارمی/الصوم 8 (1737) (صحیح)