سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1619
Sunan Ibn Majah 1619
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
64: بَابُ : مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، فَلَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقُولُهَا، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، قَالَتْ: فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے «أذهب الباس رب الناس. واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے لوگوں کے رب ! بیماری دور کر دے ، اور شفاء دے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے ، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے “ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا ، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی ، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا ، اور فرمایا : «اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى» ” اے اللہ ! مجھے بخش دے ، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے ) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1619]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق بلفظ يعوذ وهو المحفوظ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
عبد اﷲ بن زياد: مجهول (تقريب: 3329)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 84 (4437)، المرضی 18 (5675)، الدعوات 29 (6348)، صحیح مسلم/الطب 19 (2191)، سنن الترمذی/ الدعوات 77 (3496)، (تحفة الأشراف: 17638)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 16 (46)، مسند احمد (6/44، 45، 109، 127)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 3520) (صحیح) (صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یعوذ کے لفظ سے ہے، اور وہی محفوظ ہے)۔