سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1618
Sunan Ibn Majah 1618
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
64: بَابُ : مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: " اشْتَكَى فَعَلَقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثَةِ آكِلِ الزَّبِيبِ، وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَأَنْ يَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ بِالْأَرْضِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّهِ عَائِشَةُ، هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : اماں جان ! مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ( اپنے بدن پر ) پھونکنا شروع کیا ، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے ، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی ، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے ، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے ، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا ، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1618]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انگور کھانے والا منہ سے بیج نکالنے کے لیے جس طرح پھونکتا ہے اس طرح آپ پھونک رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون جملة الزبيب
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 39 (665)، 46 (679)، 47 (683)، 51 (687)، 67 (712)، 68 (713)، 70 (796)، المغازي 83 (4442)، الاعتصام 5 (7303)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن النسائی/الإمامة 40 (834)، (تحفة الأشراف: 16309)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (83)، مسند احمد (6/34، 96، 97، 210، 224، 228، 249، 251)، دي الصلاة 44 (1292) (صحیح) (زبیب کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)