سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1611
Sunan Ibn Majah 1611
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
59: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُبْعَثُ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے گھر والوں کے یہاں کھانا بھیجنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَوْنٍ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ آلَ جَعْفَرٍ قَدْ شُغِلُوا بِشَأْنِ مَيِّتِهِمْ، فَاصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَا زَالَتْ سُنَّةً حَتَّى كَانَ حَدِيثًا فَتُرِكَ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس آئے ، اور فرمایا : ” جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں ، لہٰذا تم لوگ ان کے لیے کھانا بناؤ “ ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں بدعت آ داخل ہوئی ، تو اسے چھوڑ دیا گیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1611]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ میت والوں کو کھانا بھیجنا پہلے سنت تھا پھر لوگوں نے اس میں فخر و مباہات کے جذبہ سے تکلف شروع کیا اور بلاضرورت انواع و اقسام کے کھانے پکا کر بھیجنے لگے، دوسرے یہ کہ میت والوں کے پاس ساری برادری اور کنبے والوں نے جمع ہونا شروع کیا، اور کھانا بھیجنے والوں کو ان سب لوگوں کے موافق کھانا بھیجنا پڑا۔ اس لئے یہ امر بدعت سمجھ کر ترک کر دیا گیا، چنانچہ امام احمد اور ابن ماجہ نے باسناد صحیح جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم میت والوں کے پاس جمع ہونا، اور میت کے دفن کے بعد کھانا بھیجنا دونوں کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اس پر بھی صحابی یا تابعی کا قول حدیث مرفوع کے مقابل نہیں ہو سکتا، اور محدثین نے میت والوں کے پاس کھانا بھیجنا مستحب رکھا ہے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أم عون: مقبولة (مستورة الحال) وأم عيسي (الخزاعية) الجزار: لا يعرف حالھا (تقريب:8750،8754) ¤ والحديث السابق (الأصل: 1610) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1576، ومصباح الزجاجة: 585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/370) (حسن) (سند میں ام عیسیٰ اور ام عون مجہول ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)