سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1578
Sunan Ibn Majah 1578
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
50: بَابُ : مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ
باب: عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ، فَقَالَ: " مَا يُجْلِسُكُنَّ؟"، قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ، قَالَ: " هَلْ تَغْسِلْنَ؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ: " هَلْ تَحْمِلْنَ؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ: " هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ: " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ، آپ نے پوچھا : ” تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا اسے اٹھاؤ گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1578]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن سلمان بن أبي المغيرة الكوفي: ضعيف (تقريب: 450) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10269، ومصباح الزجاجة: 566) (ضعیف) (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: 1لضعیفہ: 2742)