سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1577
Sunan Ibn Majah 1577
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1577]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز29 (1278)، صحیح مسلم/الجنائز11 (938)، (تحفة الأشراف: 18139)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 44 (3167)، مسند احمد (6/408) (صحیح)