سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1558
Sunan Ibn Majah 1558
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
40: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الشَّقِّ
باب: صندوقی قبر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ، وَالشَّقِّ، حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ"، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ، وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا، فَجَاءَ اللَّاحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا ، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں ، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو ، یا ایسا ہی کچھ کہا ، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا ، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا ، اس نے بغلی قبر بنائی ، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1558]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16246، ومصباح الزجاجة: 556) (حسن) (متابعات وشواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید بن طفیل مجہول اور عبد الرحمن بن أبی ملیکہ ضعیف راوی ہیں) (تراجع الألبانی: رقم: 590)